مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي أُسَيْدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15963
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ : أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أُصِيبَ بَصَرُهُ قَبْلَ قَتْلِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَتَّعَنِي بِبَصَرِي فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَرَادَ الْفِتْنَةَ فِي عِبَادِهِ كَفَّ بَصَرِي عَنْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بینائی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے ختم ہو گئی تھی انہوں نے یہ فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ، مجھے بینائی کی نعمت عطا کی تھی اور جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فتنے کا ارادہ کیا ، تو اس نے اس حوالے سے میری بینائی کو روک لیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن حازم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ( راوی ) ثقہ ہے ۔