مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَعُرِضَ عَلَيْهِ فَرَسٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ : احْمِلْنِي عَلَى هَذَا ، فَقَالَ : لَأَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِ غُلَامًا قَدْ رَكِبَ الْخَيْلَ عَلَى عُزْلَتِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْمِلَكَ عَلَيْهِ ، فَغَضِبَ الرَّجُلُ وَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْ أَبِيكَ فَارِسًا ، فَغَضِبْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِخَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ فَسَحَبْتُهُ عَلَى أَنْفِهِ ، فَكَأَنَّمَا كَانَ عَلَى أَنْفِهِ عَزْلَاءُ مَزَادَةٌ ، فَأَرَادَتِ الْأَنْصَارُ أَنْ يَسْتَقْيِدُوا مِنِّي ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنِّي مُقَيِّدُهُمْ مِنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، وَلَأَنْ أُخْرِجَهُمْ مِنْ دِيَارِهِمْ أَقْرَبُ مِنْ أَنْ أُقِيدَهُمْ مِنْ وَزَعَةِ اللَّهِ الَّذِينَ يَزَعُونَ عِبَادَ اللَّهِ . قُلْتُ : هَذَا الْكَلَامُ الْأَخِيرُ لَمْ أَعْرِفْ مَعْنَاهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، ایک گھوڑا ان کے سامنے آیا ، ایک شخص نے کہا: مجھے یہ سواری کے لئے دے دیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ اس لڑکے کو سواری کے لئے دے دوں جو عزلت کے ہمراہ گھوڑے پر سوار ہو ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ میں یہ تمہیں سواری کے لئے دوں ، تو وہ شخص غصے میں آ گیا اور بولا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے اور آپ کے والد سے زیادہ بہتر شہسوار ہوں ، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب اس نے اللہ کے رسول کے خلیفہ کو یہ بات کہی ، تو میں غصے میں آ گیا ، میں اُٹھ کر اس کی طرف بڑھا ، میں نے اس کا سر پکڑا اور اس کی ناک پر مارا تو وہاں گومڑ سا بن گیا ، انصار نے یہ ارادہ کیا کہ وہ مجھ سے بدلہ لیں ، جب اس بات کی اطلاع سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ملی تو انہوں نے فرمایا : کچھ لوگ یہ گمان کر رہے ہیں کہ میں انہیں مغیرہ بن شعبہ سے بدلہ دلواؤں گا ، میں ان لوگوں کو ان کے علاقوں سے نکلوا دوں ، یہ اس سے زیادہ موزوں ہو گا کہ میں انہیں اس تربیت کرنے والے سے بدلہ دلواؤں جو اللہ کے بندوں کی تربیت کرتا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس آخری جملے کا مفہوم میں نہیں سمجھ سکا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔