مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ مَرْحَبٍ قَالَ : نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْبَعَةٌ ، أَحَدُهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يُدْعَى أَحْدَثَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ : أَخَذْتُ خَاتَمِي فَأَلْقَيْتُهُ وَقُلْتُ : إِنَّ خَاتَمِي سَقَطَ مِنْ يَدِي ; لِأَمَسَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَكُونَ آخِرَ النَّاسِ عَهْدًا بِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ابن مرحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک میں چار افراد اُترے تھے ، ان میں سے ایک سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ سب سے آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک سے باہر نکلے تھے ، وہ کہتے ہیں : میں نے اپنی انگوٹھی پکڑی اور اسے اُس میں گرا دیا اور میں نے یہ کہا: میری یہ انگوٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی ہے ، میرا مقصد یہ تھا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مس کر لوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری نسبت میری ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔