مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 15922
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، اسْتَوْصِ مُعَاوِيَةَ ; فَإِنَّهُ أَمِينٌ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ ، وَنِعْمَ الْأَمِينُ هُوَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ فِطْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَعَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ فِيهِ لِينٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت قبول کیجئے ! کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے بارے میں ” امین “ ہیں ، اور وہ اچھے امین ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن فطر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور ایک راوی علی بن سعید رازی ہے ، جس میں کمزوری پائی جاتی ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔