مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ : نَزَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِيرَةَ عَلَى أَمِيرِ بَنِي الْمَرَازِبَةِ ، فَقَالُوا لَهُ : احْذَرِ السُّمَّ ، لَا تَسْقِيكَهُ الْأَعَاجِمُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ اقْتَحَمَهُ وَقَالَ : بِسْمِ اللَّهِ . فَلَمْ يَضُرَّهُ شَيْئًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَهُوَ مُتَّصِلٌ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا السَّفَرِ وَأَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى لَمْ يَسْمَعَا مِنْ خَالِدٍ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ابوالسفر بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حیرہ کے مقام پر بنومرازبہ کے امیر کے پاس گئے ، لوگوں نے ان سے کہا: آپ اس بات سے احتیاط کیجئے گا کہ کہیں عجمی لوگ آپ کو زہر نہ پلا دیں ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس وہ لے کر آؤ ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ میں اس پیالے کو پکڑا اور اسے پی لیا ، انہوں نے بسم اللہ پڑھی تھی ، تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور
یہ روایت متصل ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوالسفر اور ابوبردہ بن ابوموسیٰ نامی راویوں نے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔