حدیث نمبر: 15856
عَنِ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ : أَنَّ رَافِعًا رُمِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَوْ يَوْمَ خَيْبَرَ - شَكَّ عَمْرٌو - بِسَهْمٍ فِي ثَنْدُوَتِهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزِعِ السَّهْمَ ، فَقَالَ : " يَا رَافِعُ ، إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ وَشَهِدَتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ " . قَالَ : فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ ، فَعَاشَ بِهَا حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ ، فَانْتَفَضَ بِهِ الْجُرْحُ فَمَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَأُتِيَ ابْنُ عُمَرَ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَاتَ رَافِعٌ ، فَتَرَحَّمَ عَلَيْهِ وَقَالَ : إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤَذَّنَ مِنْ حَوْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى ، فَلَمَّا خَرَجْنَا بِجِنَازَتِهِ نُصَلِّي عَلَيْهِ جَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى رَأْسِ الْقَبْرِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَامْرَأَةُ رَافِعٍ إِنْ كَانَتْ صَحَابِيَّةً وَإِلَّا فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں : غزوہ احد ( عمرو نامی راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) غزوہ خیبر کے موقع پر جنگ میں حصہ لیتے ہوئے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو ایک تیر سینے میں لگ گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ تیر نکال دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تیر نکال دیتا ہوں ، اور اس کا پھل بھی نکال دیتا ہوں ، لیکن اگر تم چاہو تو میں تیر نکال دیتا ہوں اور پھل اندر رہنے دیتا ہوں اور قیامت کے دن میں تمہارے حق میں یہ گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر نکال دیا اور پھل اندر رہنے دیا ، تو اس پھل سمیت سیدنا رافع رضی اللہ عنہ زندہ رہے یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے اس زخم سے خون بہنا شروع ہوا ، تو عصر کے بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔ کوئی شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں یہ بتایا : اے ابوعبدالرحمن ! سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُن کے لئے رحمت کے کلمات کہے ، اور یہ کہا: سیدنا رافع رضی اللہ عنہ جیسے فرد کا جنازہ اُس وقت تک نہیں نکلنا چاہیے ، جب تک مدینہ منورہ کی نواحی بستیوں میں اعلان نہیں کر دیا جاتا ، راوی کہتے ہیں : جب ہم اُن کا جنازہ لے کر نکلے ، تاکہ ہم ان کی نماز جنازہ ادا کریں ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ وہ اس کی قبر کے سرہانے بیٹھ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اگر تو صحابیہ ہیں ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں اُس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15856
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4242) اخرجه احمد فى المسند (378/6)»