مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي : ابْنَ الْأَشْتَرِ - أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَضَرَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ ، فَبَكَتِ امْرَأَتُهُ فَقَالَ : مَا يُبْكِيكِ ؟ فَقَالَتْ : أَبْكِي أَنَّهُ لَا يَدَ لِي بِنَفْسِكَ وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُ لَكَ كَفَنًا قَالَ : لَا تَبْكِي ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ [ ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا فِى عِنْدَهُ فِي نَفَرٍ ] : " لِيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ تَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ " . قَالَ : فَكُلُّ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ مَاتَ فِي جَمَاعَةٍ وَقَرْيَةٍ ، لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ غَيْرِي ، وَقَدْ أَصْبَحْتُ بِالْفَلَاةِ أَمُوتُ ، فَرَاقِبِي الطَّرِيقَ فَإِنَّكِ سَوْفَ تَرَيْنَ مَا أَقُولُ ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ قَالَتْ : وَأَنَّى ذَلِكَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْحَاجُّ قَالَ : رَاقِبِي الطَّرِيقَ . قَالَ : فَبَيْنَا هِيَ كَذَلِكَ إِذَا هِيَ بِالْقَوْمِ تَخُبُّ بِهِمْ رَوَاحِلُهُمْ كَأَنَّهُمُ الرَّخَمُ ، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتَّى وَقَفُوا عَلَيْهَا ، فَقَالُوا : مَا لَكِ ؟ فَقَالَتِ : امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُكَفِّنُوهُ وَتُؤْجَرُونَ فِيهِ قَالُوا : وَمَنْ هُوَ ؟ قَالَتْ : أَبُو ذَرٍّ ، فَفَدَوْهُ بِآبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ ، وَوَضَعُوا سِيَاطَهُمْ فِي نِحْوَرِهَا يَبْتَدِرُونَهُ ، فَقَالَ : أَبْشِرُوا فَأَنْتُمُ النَّفَرُ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيكُمْ مَا قَالَ [ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنِ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ هَلَكَ بَيْنَهُمَا وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ فَاحْتَسَبَا وَصَبَرَا ، فَيَرَيَانِ النَّارَ أَبَدًا ] ثُمَّ [ قَدْ ] أَصْبَحْتُ الْيَوْمَ حَيْثُ تَرَوْنَ ، وَلَوْ أَنَّ لِي ثَوْبًا مِنْ أَثْوَابِي يَسَعُ لَأُكَفَّنَ فِيهِ ، فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ [ أَنْ ] لَا يُكَفِّنِّي رَجُلٌ مِنْكُمْ كَانَ عَرِيفًا ، أَوْ أَمِيرًا ، أَوْ بَرِيدًا ; فَكُلُّ الْقَوْمِ قَدْ نَالَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ : أَنَا صَاحِبُكَ ، ثَوْبَانِ فِي عِبْيَتِي مِنْ غَزَلِ أُمِّي وَأَحَدُ ثَوْبَيْ هَذَيْنِ اللَّذَيْنِ عَلَيَّ قَالَ : أَنْتَ صَاحِبِي [ فَكَفِّنِّي ] . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَتَيْنِ أَحَدُهُمَا هَذِهِ ، وَالْأُخْرَى مُخْتَصَرَةٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ عَنْ أُمِّ ذَرٍّ ، وَرِجَالُ الطَّرِيقِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ابراہیم بن اشتر بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا ، وہ اُس وقت ” ربذہ “ میں موجود تھے ، ان کی بیوی رونے لگی ، سیدنا ابوزر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ اس خاتون نے جواب دیا : میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ میں آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکتی ، میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں ہے جو آپ کے کفن کے لئے کفایت کر جائے ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نہ رؤو ! کیونکہ میں نے ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ، اُس وقت میں کچھ افراد سمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ایک شخص ویرانے میں انتقال کرے گا اور اہل ایمان کی ایک جماعت اُس کے جنازے میں شریک ہو گی ۔ “ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس محفل میں جتنے بھی لوگ موجود تھے ، وہ سب اجتماع اور بستیوں میں فوت ہوئے ہیں ، اب اُن میں سے میرے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہا ، اور میں بھی اس وقت ایک ویرانے میں مرنے کے قریب ہوں ، تو تم راستے کا دھیان رکھو ! تم عنقریب وہ چیز دیکھ لو گی ، جو میں نے بیان کی ہے ، کیونکہ اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے ، اس خاتون نے کہا: اب بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ حاجی رخصت ہو چکے ہیں ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اللہ نے فرمایا : تم راستے کا دھیان رکھنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ خاتون راستے میں موجود تھی ، وہاں سے کچھ لوگ گزرے جو اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لے جا رہے تھے ، وہ لوگ وہاں آئے اور اس خاتون کے پاس ٹھہر گئے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا: ایک مسلمان شخص کے کفن کا بندوبست کرنا ہے ، تمہیں اُس کا اجر ملے گا ، اُن لوگوں نے دریافت کیا : وہ شخص کون ہے ؟ اُس عورت نے بتایا : سیدنا ابوزر رضی اللہ عنہ ، تو وہ لوگ یہ کہنے لگے : ہمارے ماں باپ اُن پر قربان ہوں ، پھر وہ تیزی سے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ خوشخبری قبول کرو کہ تم وہ لوگ ہو جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات ارشاد فرمائی تھی ، تم لوگ یہ خوشخبری قبول کرو کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بھی دو مسلمان ( میاں بیوی ) کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ دونوں ثواب کی امید رکھیں ، اور صبر سے کام لیں ، تو وہ دونوں کبھی بھی جہنم کو نہیں دیکھیں گے ۔ “ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری جو صورت حال ہے ، وہ تمہارے سامنے ہے ، اگر میرے پاس اتنا کپڑا ہوتا ، جو میرے کفن کے لئے کفایت کر جاتا ، تو مجھے اُسی کپڑے میں کفن دیا جاتا ( میرے کفن کا بندوبست تم نے کرنا ہے ) لیکن میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی ایسا شخص مجھے کفن فراہم نہ کرے ، جو عریف یا امیر یا برید ( یعنی کسی سرکاری عہدے پر فائز ) رہ چکا ہو ، راوی کہتے ہیں : تو ان سب لوگوں میں سے کوئی نہ کوئی ، کسی نہ کسی عہدے پر فائز رہا تھا ، صرف انصار سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کا معاملہ مختلف تھا ، وہ ان لوگوں کے ساتھ تھا ، اس نے کہا: میں آپ کا یہ کام کروں گا ، میرے تھیلے میں دو کپڑے ہیں ، جو میری والدہ نے تیار کیے ہیں ، ان دو کپڑوں میں سے ایک میرے جسم پر ہے ، تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میرے متعلقہ فرد ہو ، تم مجھے کفن دینا ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان میں سے ایک یہ ہے اور دوسری روایت مختصر ہے انہوں نے اسے ابراہیم بن اشتر کے حوالے سے سیدہ ام ذر رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ، پہلی روایت کے طریق کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔