مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ : ، أَنَّهُ زَارَ أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ ، فَمَكَثَ عِنْدَهُ لَيَالِي ، فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُوكِفَ لَهُ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : لَا أَرَانِي إِلَّا مُتَّبِعَكَ ، فَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَأُسْرِجَ ، فَسَارَا عَلَى حِمَارَيْهِمَا فَلَقِيَا رَجُلًا شَهِدَ الْجُمُعَةَ بِالْأَمْسِ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بِالْجَابِيَةِ ، فَعَرَفَهُمَا الرَّجُلُ وَلَمْ يَعْرِفَاهُ ، فَأَخْبَرَهُمَا خَبَرَ النَّاسِ . ¤ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ قَالَ : وَخَبَرٌ آخَرُ كَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَكُمَاهُ أَرَاكُمَا تَكْرَهَانِهِ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : فَلَعَلَّ أَبَا ذَرٍّ نُفِيَ ! قَالَ : نَعَمْ وَاللَّهِ ، فَاسْتَرْجَعَ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَصَاحِبُهُ قَرِيبًا مِنْ عَشْرِ مَرَّاتٍ . ثُمَّ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : ارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ كَمَا قِيلَ لِأَصْحَابِ النَّاقَةِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كَذَّبُوا أَبَا ذَرٍّ فَإِنِّي لَا أُكَذِّبُهُ ، اللَّهُمَّ إِنِ اتَّهَمُوهُ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُهُ ، اللَّهُمَّ وَإِنِ اسْتَغْشَوْهُ فَإِنِّي لَا أَسْتَغْشِهِ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْتَمِنُهُ حِينَ لَا يَأْتَمِنُ أَحَدًا ، وَيُسِرُّ إِلَيْهِ حِينَ لَا يُسِرُّ لِأَحَدٍ ، أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ يَمِينِي مَا أَبْغَضْتُهُ بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ ، مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى الْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِلَى بِرِّهِ وَصِدْقِهِ وَجِدِّهِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَبِي ذَرٍّ " . وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : وہ حمص میں ، سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملنے کے لئے گئے ، اور چند دن ان کے ہاں ٹھہرے ، ان کے حکم کے تحت ان کے گدھے پر چادر رکھی گئی ، پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ میں تمہارے پیچھے چلوں گا ، پھر انہوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا اس پر زین رکھی گئی ، پھر وہ دونوں اپنے دونوں گدھوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے ، ان دونوں کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی ، جس نے گزشتہ دن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ” جابیہ “ کے مقام پر جمعہ کی نماز میں شرکت کی تھی ، اُس شخص نے ان دونوں کو پہچان لیا ، لیکن یہ دونوں صاحبان اس شخص کو نہیں پہچان پائے ، اس شخص نے ان دونوں کو لوگوں کی صورت حال کے بارے میں بتایا ، پھر اس شخص نے یہ کہا: ایک اور خبر بھی ہے اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاؤں ، کیونکہ آپ دونوں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ آپ دونوں بھی اسے ناپسند کریں گے ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : شاید سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو جلاوطن کر دیا گیا ہے ، اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھی نے تقریباً دس مرتبہ انا لله وانا اليه راجعون پڑھا ۔ پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم انہیں دیکھتے رہو اور صبر سے کام لو ، جیسا کہ اونٹنی والے لوگوں ( یعنی سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم کے افراد ) سے کہا: گیا ، پھر انہوں نے کہا: اے اللہ ! اگر ان لوگوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو جھوٹا قرار دیا ہے ، تو میں انہیں جھوٹا قرار نہیں دیتا ، اے اللہ ! اگر ان لوگوں نے ان پر تہمت عائد کی ہے ، تو میں اُن پر تہمت عائد نہیں کرتا ، اے اللہ ! اگر ان لوگوں نے انہیں فریبی قرار دیا ہے ، تو میں انہیں فریبی قرار نہیں دیتا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت انہیں ” امین “ بنایا تھا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو ” امین “ نہیں بنایا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے ساتھ راز کی باتیں کی تھیں ، جب کسی کے ساتھ راز کی باتیں نہیں کی تھیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں ابودرداء کی جان ہے ، اگر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ میرا دایاں ہاتھ کاٹ دیں ، تو میں پھر بھی انہیں ناپسند نہیں کروں گا ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آسمان نے ایسے کسی شخص پر سایہ نہیں کیا اور زمین نے کسی ایسے شخص کو اپنے اوپر نہیں اٹھایا ، جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص سیدنا مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف ، اُن کی نیکی ، اُن کی سچائی اور ان کی کوشش کی طرف دیکھنا چاہے ، اُسے ابوذر کو دیکھ لینا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔