مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَوَلَدِهِ يُوسُفَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . باب: حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے حضرت یوسف رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِقَصْعَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَجِيءُ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَأْكُلُ هَذِهِ الْفَضْلَةَ ؟ " . قَالَ سَعْدٌ : وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرًا يَتَوَضَّأُ قَالَ قَالَ : فَقُلْتُ : هُوَ عُمَيْرٌ ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَأَكَلَهَا . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا ، آپ نے اس میں سے کچھ کھا لیا اور اس میں سے کچھ بچ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس راستے سے ایک جنتی شخص آئے گا اور وہ اس بچے ہوئے کو کھائے گا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اُس وقت میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کے آیا تھا ، میں نے سوچا وہ عمیر ہو گا ، لیکن اسی دوران عبداللہ بن سلام آ گئے اور انہوں نے اسے کھا لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں ان کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔