مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَوَلَدِهِ يُوسُفَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - . باب: حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے حضرت یوسف رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو منقول ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ يَهُودَ : إِنِّي أُحْدِثُ بِمَسْجِدِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ ، فَوَافَاهُمْ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَقَامَ مَعَ النَّاسِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ادْنُ " . فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ، أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ " . فَقُلْتُ لَهُ : انْعَتْ لَنَا رَبَّنَا قَالَ : فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ابْنُ سَلَامٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ] وَأَنَا عَلَى نَخْلَةٍ أَجُزُّهَا ، فَسَمِعْتُ رَجَّةً فِي الْمَدِينَةِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَدِمَ . قَالَ : فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَقَالَتْ أُمِّي : وَاللَّهِ لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ كَذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مُوسَى إِذْ بُعِثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد بن حمزه بن یوسف بن عبداللہ بن سلام ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے کہا: میں اپنے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی مسجد کے پاس سے ہو کے آتا ہوں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تشریف لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں ہی موجود تھے ، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اس وقت وہاں پہنچے جب لوگ حج کر کے واپس جا رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں پایا ، کچھ لوگ آپ کے اردگرد موجود تھے ، وہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھا ، تو آپ نے فرمایا : تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : قریب ہو جاؤ ! میں آپ کے قریب ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں اے عبداللہ بن سلام ! کیا تم نے تورات میں یہ بات نہیں پائی ہے ؟ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : آپ اپنے پروردگار کی صفات ہمارے سامنے بیان کیجئے ! راوی کہتے ہیں : تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے ، انہوں نے یہ آیات پڑھیں : ” تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا ، اور کوئی اس کا ہم پلہ نہیں ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت ہمارے سامنے تلاوت کی ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس چلے گئے ، انہوں نے اپنے ایمان کو چھپا کے رکھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس وقت کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا کھجوریں اُتار رہا تھا ، میں نے مدینہ منورہ میں شور کی آواز سنی تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے کھجور کے درخت کے اوپر سے نیچے چھلانگ مار دی اور پھر میں نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر جب میں واپس آیا ، تو میری والدہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہوتے ، تو تم نے کھجور کے درخت کے اوپر سے اس طرح خود کو نیچے نہیں گرانا تھا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر میں اُس سے زیادہ خوش ہوا ہوں ، جتنا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بعثت پر ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔