حدیث نمبر: 15805
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ لِأَحْبَارِ يَهُودَ : إِنِّي أُحْدِثُ بِمَسْجِدِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَهْدًا ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِمَكَّةَ ، فَوَافَاهُمْ وَقَدِ انْصَرَفُوا مِنَ الْحَجِّ ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى وَالنَّاسُ حَوْلَهُ ، فَقَامَ مَعَ النَّاسِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ادْنُ " . فَدَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ : " أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ، أَمَا تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ " . فَقُلْتُ لَهُ : انْعَتْ لَنَا رَبَّنَا قَالَ : فَجَاءَ جِبْرِيلُ حَتَّى وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ، فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ابْنُ سَلَامٍ إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَتَمَ إِسْلَامَهُ ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ] وَأَنَا عَلَى نَخْلَةٍ أَجُزُّهَا ، فَسَمِعْتُ رَجَّةً فِي الْمَدِينَةِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَدِمَ . قَالَ : فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ، ثُمَّ خَرَجْتُ أَحْضُرُ حَتَّى أَتَيْتَهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ رَجَعْتُ فَقَالَتْ أُمِّي : وَاللَّهِ لَوْ كَانَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ كَذَلِكَ تُلْقِي نَفْسَكَ مِنْ أَعْلَى النَّخْلَةِ ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَنَا أَشَدُّ فَرَحًا بِقُدُومِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مُوسَى إِذْ بُعِثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن حمزه بن یوسف بن عبداللہ بن سلام ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کے علماء سے کہا: میں اپنے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی مسجد کے پاس سے ہو کے آتا ہوں ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تشریف لے گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں ہی موجود تھے ، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اس وقت وہاں پہنچے جب لوگ حج کر کے واپس جا رہے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں پایا ، کچھ لوگ آپ کے اردگرد موجود تھے ، وہ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف دیکھا ، تو آپ نے فرمایا : تم عبداللہ بن سلام ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ نے فرمایا : قریب ہو جاؤ ! میں آپ کے قریب ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں اے عبداللہ بن سلام ! کیا تم نے تورات میں یہ بات نہیں پائی ہے ؟ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی : آپ اپنے پروردگار کی صفات ہمارے سامنے بیان کیجئے ! راوی کہتے ہیں : تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو گئے ، انہوں نے یہ آیات پڑھیں : ” تم یہ فرما دو ! کہ اللہ ایک ہے ، اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ، اس نے کسی کو جنم نہیں دیا اور اسے جنم نہیں دیا گیا ، اور کوئی اس کا ہم پلہ نہیں ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت ہمارے سامنے تلاوت کی ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں ، پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ واپس چلے گئے ، انہوں نے اپنے ایمان کو چھپا کے رکھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس وقت کھجور کے ایک درخت پر چڑھا ہوا کھجوریں اُتار رہا تھا ، میں نے مدینہ منورہ میں شور کی آواز سنی تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے کھجور کے درخت کے اوپر سے نیچے چھلانگ مار دی اور پھر میں نکلا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو سلام کیا ، پھر جب میں واپس آیا ، تو میری والدہ نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہوتے ، تو تم نے کھجور کے درخت کے اوپر سے اس طرح خود کو نیچے نہیں گرانا تھا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر میں اُس سے زیادہ خوش ہوا ہوں ، جتنا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی بعثت پر ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15805
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح