حدیث نمبر: 15789
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَزَلَ عَلَيْهِ حِينَ هَاجَرَ ، غَزَا أَرْضَ الرُّومِ ، فَمَرَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَجَفَاهُ ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ مِنْ غَزْوَتِهِ فَجَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْ لَهُ رَأْسًا ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْبَأَنِي أَنَّا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً قَالَ مُعَاوِيَةُ : فَبِمَ أَمَرَكُمْ ؟ قَالَ : أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ قَالَ : اصْبِرُوا إِذًا . فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ وَقَدْ أَمَّرَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ لَكَ عَنْ مَسْكَنِي كَمَا خَرَجْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ أَهْلَهُ فَخَرَجُوا ، وَأَعْطَاهُ كُلَّ شَيْءٍ أَغْلَقَ عَلَيْهِ الدَّارَ ، فَلَمَّا كَانَ انْطِلَاقُهُ قَالَ : حَاجَتُكَ ؟ قَالَ : حَاجَتِي عَطَائِي وَثَمَانِيَةُ أَعْبُدٍ يَعْمَلُونَ فِي أَرْضِي ، وَكَانَ عَطَاؤُهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ ، فَأَضْعَفَهَا لَهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفًا وَأَرْبَعِينَ عَبْدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہجرت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں ٹھہرے تھے ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روم کی سرزمین پر جنگ میں حصہ لینے کے لئے گئے ، ان کا گزر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ، وہ تشریف لے گئے ، جب وہ جنگ سے واپس تشریف لائے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور انہیں نگاہ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا ، تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ ہم لوگ ( یعنی انصار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترجیحی سلوک دیکھیں گے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لوگوں کو کیا حکم دیا ؟ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا کہ ہم صبر سے کام لیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ لوگ صبر سے کام لیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر مقرر کیا تھا ، انہوں نے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! میں یہ چاہتا ہوں کہ میں آپ کی خاطر اپنی رہائش گاہ چھوڑ کے چلا جاؤں ، جس طرح آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر اپنی رہائش گاہ چھوڑ دی تھی ، پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا تو وہ گھر سے باہر آ گئے اور انہوں نے گھر کے اندر موجود ہر چیز سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو دے دی ، جب گھر خالی ہو گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ کو کوئی کام ہے ؟ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے یہ کام ہے کہ جو میرا وظیفہ ہے ، وہ مجھے مل جائے اور آٹھ غلام مل جائیں ، جو میری زمین پر کام کریں ، اُن کا وظیفہ چار ہزار تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پانچ گنا کر کے دیا ، اور انہیں بیس ہزار رقم دی اور چالیس غلام بھی دیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15789
درجۂ حدیث محدثین: منقطع, قال الهيثمي: رجال أحدهما رجال الصحيح إلا أن حبيب بن أبي ثابت لم يسمع من أبي أيوب ۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (9 / 323)
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3876 و 3877)»