مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبداللہ بن ابی کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15761
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ وَهُوَ فِي ظِلِّ أُطُمٍ ، فَقَالَ : غَبَّرَ عَلَيْنَا ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ ، فَقَالَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَئِنْ شِئْتَ لَأَتَيْتُكَ بِرَأْسِهِ ، فَقَالَ : " لَا . وَلَكِنْ بِرَّ أَبَاكَ ، وَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر عبداللہ بن اُبی کے پاس سے ہوا ، وہ اس وقت ایک عمارت کے سائے میں موجود تھا ، اس نے کہا: ابن ابوکبشہ نے ہم پر غبار ڈال دیا ہے ، تو اس کے بیٹے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عبدالله نے کہا: یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ، اگر آپ چاہیں ، تو میں اس کا سر آپ کے پاس لے کر آتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم اپنے باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، اور اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔