مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَبِي الْيُسْرِ : كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو الْيُسْرِ : كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو سَنَةَ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ بِالْمَدِينَةِ ، وَهُوَ آخِرُ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤سیدنا ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! خیبر میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام کے وقت موجود تھا ، اسی دوران ایک یہودی شخص کی بکریاں آئیں ، جو قلعے میں جانا چاہ رہی تھیں ، ہم نے ان کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون شخص ان بکریوں میں سے کھانا کھلائے گا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کرو ! راوی کہتے ہیں : تو میں نر جانور کی طرح دوڑتا ہوا گیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جاتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو ہمیں اس کے ذریعے نفع دینا ، راوی کہتے ہیں : میں بکریوں تک پہنچا ، ان کا ابتدائی حصہ قلعہ میں داخل ہو چکا تھا ، میں نے ان کے آخری حصے میں سے دو بکریاں پکڑیں اور انہیں بغل میں دبایا اور پھر انہیں لے کر دوڑتا ہوا آ گیا ، یوں جیسے میرے ساتھ کوئی چیز ہی نہیں ہے ، میں نے ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، لوگوں نے انہیں ذبح کیا اور انہوں نے ان دونوں کا گوشت کھایا ۔ سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں آخر میں انتقال کرنے والے افراد میں سے ایک ہیں ، جب وہ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے تو رو پڑتے تھے ، پھر فرماتے تھے : تم مجھ سے نفع حاصل کر لو ! مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، میں ان ( یعنی صحابہ کرام ) میں سے آخری افراد میں سے ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے بنو سلمہ کے بعض رجال کے حوالے سے ، سیدنا کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔