حدیث نمبر: 15748
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَيِّدُكُمْ يَا بَنِي سَلَمَةَ ؟ " . قَالُوا : جَدُّ بْنُ قَيْسٍ ، عَلَى أَنَّا نَزِنُهُ بِالْبُخْلِ ، فَقَالَ : " وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ ؟ ! " . قَالُوا : فَمَنْ سَيِّدُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخَيِ الطَّبَرَانِيِّ وَلَمْ أَرَ مِنْ ضَعْفِهِمَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے بنو سلمہ ! تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جد بن قیس ہیں ، تاہم ہم ان پر بخل کا الزام عائد کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بخل سے زیادہ بری بیماری اور کون سی ہے ؟ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر ہمارا سردار کون ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بشر بن براء بن معرور ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے دونوں استادوں کا معاملہ مختلف ہے ، البتہ میں نے کسی کو ان دونوں کو ضعیف قرار دیتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (81/19)»