مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
( بَابُ فَضْلِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ) قَدْ تَقَدَّمَ نَسَبُهُ فِيمَنْ شَهِدَ بَدْرًا . باب: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ مُعَاذًا كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِلَّهِ ، حَنِيفًا مُسْلِمًا ، وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ . ¤ فَقَالَ بَعْضُ جُلَسَائِهِ : إِنَّ إِبْرَاهِيمَ . قَالَ : لَمْ أَنْسَ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَدْرُونَ مَا الْأُمَّةُ ؟ قَالُوا : لَا . قَالَ : الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ . قَالَ : هَلْ تَدْرُونَ مَا الْقَانِتُ ؟ قَالُوا : لَا قَالَ : الْمُطِيعُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَجَّاجِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک امت تھے ، جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے ، سیدھے راستے پر گامزن تھے ، اور مسلمان تھے ، وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : راوی کے ساتھ بیٹھے ہوئے کسی شخص نے یہ بات بیان کی : ابراہیم نخعی نے یہ بات بیان کی ہے : میں یہ بات نہیں بھولا کہ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ اُمت سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم جانتے ہو قانت سے مراد کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سے مراد ، اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار شخص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حجاج بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔