حدیث نمبر: 15702
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنْ أُكَيْدِرَ الدَّوْمَةِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةَ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا " . ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَكْرَهُهَا وَأَلْبَسُهَا ! قَالَ : " يَا عُمَرُ ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَثَهَا وَجْهًا فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا " . وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ بَعَثَهَا إِلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” دومہ “ کے ( حکمران ) ” اکیدر “ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس سے بنا ہوا جبہ بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا ، لوگ اس پر حیران ہوئے ( یعنی انہیں وہ بہت زیادہ پسند آیا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس پر حیران ہو رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اسے ناپسند کیا ہے ، تو کیا میں اس کو پہن لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! یہ میں نے تمہاری طرف اس لئے بھجوایا ہے تاکہ تم یہ کسی کو دے کر اس کے عوض میں مال حاصل کر لو ۔ راوی کہتے ہیں : یہ ریشم کی ممانعت سے پہلے کی بات ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ، جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا تھا ، اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ مذکور ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15702
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2702)»