حدیث نمبر: 15701
وَعَنْ عُطَارِدٍ : أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبُ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى ، فَدَخَلَ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا : أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ مِنَ السَّمَاءِ ؟ فَقَالَ : " وَمَا تَعْجَبُونَ مِنْ ذَا ؟ لَمِنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا " . ثُمَّ قَالَ : " يَا غُلَامُ ، اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَقُلْ لَهُ يَبْعَثُ إِلَيَّ بِالْخَمِيصَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

عطارد کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیباج کا کپڑا تحفے کے طور پر دیا ، جو کسریٰ نے انہیں پہننے کے لئے دیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے عرض کی : کیا یہ آسمان سے آپ پر نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس پر حیران ہو رہے ہو ؟ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! تم اس کپڑے کو ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ ، اور اُس سے کہو کہ وہ حمیصہ نامی چادر میری طرف بھجوا دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح