حدیث نمبر: 15696
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ : لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ ; فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ " . رَوَاهُ [ أَحْمَدُ ] الطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ : لَمَّا أُخْرِجَ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیده اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ” جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا ، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : تمہارے آنسو ختم ہو جانے چاہییں ، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیئے ، کیونکہ تمہارا بیٹا اور پہلا فرد ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ مسکرا کر ملا ہے ، اور اس کے لئے عرش ہل گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا ، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : ” تمہارے آنسو تھم جانے چاہییں ، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ باقی کی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15696
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5344) أخرجه احمد فى المسند (456/6)»