مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضٰلت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الصِّبْيَانُ فَيُخْبِرُونَهُمْ عَنْ أَهْلِيهِمْ ، فَأُخْبِرَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ بِمَوْتِ امْرَأَتِهِ فَبَكَى ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَبْكِي ؟ فَقَالَ : وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَرْشَ اهْتَزَّتْ أَعْوَادُهُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " . وَأَسَانِيدُهَا كُلُّهَا حَسَنَةٌ . ¤یہ روایت امام طبرانی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے ، تو آپ ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کرتے تھے ، بچے نکل کر ان لوگوں کے پاس آتے تھے اور ان کے گھر بار کے بارے میں انہیں بتاتے تھے ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کے انتقال کے بارے میں بتایا گیا ، تو وہ رونے لگے ، ان سے کہا: گیا : آپ رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں کیوں نہ روؤں ، جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عرش کے پائے ، سعد بن معاذ کے انتقال کی وجہ سے ہل گئے ۔ “ اس روایت کی تمام اسانید حسن ہیں ۔