حدیث نمبر: 15690
وَفِي رِوَايَةٍ : وَلَا حَضَرْتُ مَيِّتًا إِلَّا حَدَّثْتُ نَفْسِي بِمَا يَقُولُ وَيُقَالُ لَهُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ : أَحَدُهُمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا ، وَالْآخَرُ عَنِ الْمَاجِشُونِ مُنْقَطِعًا ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں ، جب بھی کسی جنازے میں شریک ہوا ، تو میں یہی سوچتا رہا کہ یہ کہا: کہے گا ؟ اور اس سے کیا کہا: جائے گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک روایت ابوسلمہ کے حوالے سے ” مرسل“ روایت کے طور پر منقول ہے اور دوسری روایت ماجشون کے حوالے سے ” منقطع “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5322)»