مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
( بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ) تَقَدَّمَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ : أَنَّهُ فِيمَنْ شَهِدَهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15686
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ سَنَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ بِطَرِيقِ الْبَصْرَةِ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَسِنُّهُ سَبْعٌ وَخَمْسُونَ سَنَةً . وَقِيلَ : مَاتَ سَنَةَ عِشْرِينَ ، وَهُوَ الَّذِي مَصَّرَ الْبَصْرَةَ ، وَاخْتَطَّ بِهَا الْمَنَازِلَ ، وَبَنَى مَسْجِدَهَا ، وَهُوَ الَّذِي افْتَتَحَ الْأُبُلَّةَ ، وَكَانَتْ وِلَايَتُهُ الْبَصْرَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَلَّاهُ إِيَّاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا انتقال 17 ہجری میں ، بصرہ کے راستے میں ہوا تھا ، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ اہلکار تھے ، ان کی عمر 57 برس تھی ، ایک قول کے مطابق ان کا انتقال 20 ہجری میں ہوا تھا ، یہ وہ فرد ہیں جنہوں نے ” بصرہ “ شہر بسایا تھا ، وہاں گھروں کی حد بندی کی تھی ، اور وہاں کی مسجد تعمیر کی تھی ، یہ وہ فرد ہیں ، جنہوں نے ” ابلہ “ فتح کیا تھا ، یہ چھ ماہ تک بصرہ کے گورنر رہے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔