حدیث نمبر: 15673
وَعَنْ صُهَيْبٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ مَرَّ بِأَسِيرٍ لَهُ يَسْتَأْمِنُ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصُهَيْبٌ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : أَسِيرٌ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَسْتَأْمِنُ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ صُهَيْبٌ : لَقَدْ كَانَ فِي عُنُقِ هَذَا مَوْضِعٌ لِلسَّيْفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلَعَلَّكَ آذَيْتَهُ ؟ " . فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، فَقَالَ : " لَوْ آذَيْتَهُ لَآذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ایک قیدی کے ساتھ گزرے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان لینا چاہتے تھے ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مشرکین سے تعلق رکھنے والا میرا ایک قیدی ہے ، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان لینا چاہتا ہوں ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی گردن میں تلوار کے لیے ایک جگہ ہے ، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ میں تمہیں غصے میں دیکھ رہا ہوں ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں اپنے اس قیدی کے ہمراہ صہیب کے پاس سے گزرا ، تو اُس نے کہا: اس کی گردن میں تلوار کے لیے جگہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو شاید تم نے اُسے اذیت پہنچائی ہو گی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے اسے اذیت پہنچائی ہوتی ، تو تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15673
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7307)»