مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتِ امْرَأَتُهُ : هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظْرَةَ غَضْبَانَ ، وَقَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ ؟ " . قَالَتْ : فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي " . فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ قَوْلِهِ لِعُثْمَانَ وَهُوَ أَفْضَلُهُمْ ، فَلَمَّا مَاتَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَقِي بِسَلَفِنَا عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو اُن کی اہلیہ نے کہا: آپ کو جنت کی مبارک ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کے عالم میں اُس خاتون کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : تمہیں کیسے پتا چلا ؟ اُس خاتون نے عرض کی : یہ آپ کے شہسوار تھے اور آپ کے صحابی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ؟ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ کے اصحاب کے لئے پریشانی کا باعث بنی ، جو بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے ارشاد فرمائی تھی ، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام میں ہوتا تھا ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یعنی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی میت کو مخاطب کر کے ) ارشاد فرمایا : تم ہمارے پیشرو عثمان بن مظعون کے ساتھ مل جاؤ !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔