حدیث نمبر: 15653
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِرَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ : طِبْ أَبَا السَّائِبِ نَفْسًا ; إِنَّكَ فِي الْجَنَّةِ . فَسَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " . قَالَتْ : أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ : " وَمَا يُدْرِيكِ ؟ " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ ! قَالَ : " أَجَلْ ، مَا رَأَيْنَا إِلَّا خَيْرًا ، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يُصْنَعُ بِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا گیا ، تو سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے یہ کہا: ہے : اے ابوسائب ! آپ کو مبارک ہو ، کہ آپ جنت میں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کی یہ بات سن لی ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں کیا پتا ؟ اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ہمیں صرف بھلائی کا پتا ہے ، میں اللہ کا رسول ہوں ، اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہو گا ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15653
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4879)»