مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُغْسَلُ مِنَ النَّجَاسَةِ . باب: نجاست کو کیسے دھویا جائے؟
وَلَهُ عِنْدُ الْبَزَّارِ قَالَ : رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا عَلَى بِئْرٍ أَدْلُوُ مَاءً فِي رَكْوَةٍ لِي ، فَقَالَ : " مَا تَصْنَعُ ؟ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغْسِلُ ثَوْبِي مِنْ جَنَابَةٍ أَصَابَتْهُ ، فَقَالَ : " يَا عَمَّارُ ، إِنَّمَا يُغْتَسَلُ الثَّوْبُ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَالْقَيْءِ وَالدَّمِ " . ¤ وَمَدَارُ طُرُقِهِ عِنْدَ الْجَمِيعِ عَلَى ثَابِتِ بْنِ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، امام بزار نے
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاحظہ فرمایا میں ایک کنویں کے پاس موجود تھا ، اور ڈول کے ذریعے اپنے برتن میں پانی ڈال رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیا کر رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے کپڑے کو دھو رہا ہوں ، جس پر جنابت لگ گئی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمار ! کپڑے پر سے پاخانہ ، یا پیشاب ، یا قے ، یا خون کو دھویا جائے گا ۔ ان تمام روایات کے طرق کا مدار ثابت بن حماد نامی راوی پر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔