مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ ، فَأَخَذْتُ سَيْفِي فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَّا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " . قَالَ : " أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ ؟ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف کی صورتحال پیدا ہو گئی ، تو میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام ، سالم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اپنی تلوار گردن میں لٹکائی ہوئی تھی ، میں نے بھی اپنی تلوار لی اور میں نے بھی وہ گردن میں لٹکا لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم خطرے کی صورتحال میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیوں نہیں آئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ وہ کام نہیں کر سکتے تھے ؟ جو کام ان دو مؤمن افراد نے کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔