مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ بِلَالٍ الْمُؤَذِّنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت بلال مؤذن رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَشَّرْتُ بِلَالًا ، فَقَالَ لِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، بِمَا تُبَشِّرُنِي ؟ فَقُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَجِيءُ بِلَالٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نَاقَةٍ ، رِجْلُهَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَزِمَامُهَا مَنْ دُرٍّ وَيَاقُوتٍ ، مَعَهُ لِوَاءٌ يَتْبَعُهُ الْمُؤَذِّنُونَ ، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى إِنَّهُ لَيَدْخُلُ مَنْ أَذَّنَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو خوشخبری سنائی ، تو انہوں نے دریافت کیا : اے عبداللہ ! تم مجھے کس بات کی خوشخبری سنانا چاہتے ہو ؟ تو میں نے جواب دیا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، بلال ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہو کر آئے گا ، جس کے پاؤں سونے کے بنے ہوئے ہوں گے ، اس کی لگام قیمتی پتھروں اور یاقوت کی بنی ہوئی ہو گی ، بلال کے پاس ایک جھنڈا ہو گا اور اذان دینے والے لوگ اُس کے پیچھے ہوں گے ، اور وہ ( یعنی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ) ان ( یعنی مؤذنین ) کو جنت میں داخل کروا دے گا ، یہاں تک کہ وہ ہر ایسے فرد کو داخل کروا دے گا ، جس نے چالیس دن تک صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اذان دی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔