حدیث نمبر: 15637
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعَ وَجْسًا ، فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، مِنْ هَذَا ؟ " . قَالَ : هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلنَّاسِ حِينَ جَاءَ : " قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ ، رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَابُوسٍ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، اس ( معراج کے دوران ) میں ، جب آپ جنت میں داخل ہوئے ، تو آپ نے کسی کی ہلکی سی آواز سنی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل : یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ سیدنا بلال مؤذن رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، تو آپ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : ” تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ، میں نے اس کے لئے یہ یہ کچھ دیکھا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور قابوس کے علاوہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ویسے قابوس کی بھی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن