مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15630
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ مَوْلَى زُهْرَةَ ، يُكْنَى : عَبْدَ اللَّهِ . تُوُفِّيَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ مُنْصَرَفَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مَنْ صِفِّينَ إِلَى الْكُوفَةِ ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ قُبِرَ فِي الْكُوفَةِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ إِسْلَامُ خَبَّابٍ بِمَكَّةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بنوزہرہ کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے تھے ، ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، ان کا انتقال 37 ہجری میں ہوا ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین سے واپس کوفہ کی طرف تشریف لا رہے تھے ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے پہلے فرد ہیں ، جو کوفہ میں دفن ہوئے ، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اسلام قبول کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔