مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَوَفَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کی وفات کا بیان
وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ دَعَا غُلَامًا لَهُ بِشَرَابٍ ، فَأَتَاهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، الْيَوْمَ أَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ آخِرَ شَيْءٍ أَزُودُهُ مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحَةُ لَبَنٍ . ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَوْ هَزَمُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا سَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْنَا أَنَّا عَلَى حَقٍّ وَأَنَّهُمْ عَلَى بَاطِلٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابوسنان دؤلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، انہوں نے اپنے غلام سے مشروب منگوایا ، تو وہ غلام اُن کے پاس دودھ کا پیالہ لے کر آیا ، انہوں نے اس دودھ کو پیا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا: ہے ، آج میں اپنی محبوب ہستیوں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں سے مل جاؤں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا : میں دنیا میں جو آخری چیز استعمال کروں گا ، وہ دودھ ہو گا ، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ ہمیں پسپا کر دیں ، یہاں تک کہ وہ ہمیں ” سعفات ہجر “ تک پہنچا دیں ، تو بھی ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔