مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَوَفَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کی وفات کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ : أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ حِينَ كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ لِعَمَّارٍ : " إِنَّكَ حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ ، وَإِنَّكَ لَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَلَتَقْتُلَنَّكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . قَالَ : بَلَى قَالَ : فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ ، نَحْنُ قَتَلْنَاهُ ؟ إِنَّمَا قَتْلَهُ الَّذِي جَاءَ بِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: امیر المؤمنین ! کیا آپ نے
یہ روایت نہیں سنی ہے ؟ کہ مسجد کی تعمیر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا : ” تم جہاد کرنے کے حریص ہو اور تم اہل جنت میں سے ایک ہو اور ایک باغی گروہ تمہیں قتل کرے گا ۔ “ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : پھر آپ لوگوں نے انہیں کیوں قتل کیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! تم مسلسل اپنے پیشاب میں گیلے ہوتے رہو گے ( یعنی تمہارا بچپنا کب ختم ہو گا ) ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہیں اس نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔