حدیث نمبر: 1561
وَلَهُ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى : لَمَّا أَسْلَمَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ أَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَغْتَسِلَ وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ، وَضَعَفَّهُ غَيْرُهُمَا مِنْ غَيْرِ نِسْبَةٍ إِلَى كَذِبٍ ، وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ : فَإِنْ كَانَ هُوَ الْعُمَرِيَّ فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، امام ابویعلیٰ نے یہ روایت نقل کی ہے : جب ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ غسل کر کے دو رکعات ادا کرے ۔
امام أحمد اور امام بزار کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمر عمری ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابو أحمد بن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ان دونوں کے علاوہ حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، لیکن اس کی نسبت جھوٹ کی طرف نہیں کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کے حوالے سے سعید مقبری کا یہ قول منقول ہے : اگر تو یہ عمری ہے ، تو پھر یہ حدیث حسن ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن