حدیث نمبر: 15607
عَنْ مَوْلَاةٍ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَتِ : اشْتَكَى عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ شَكْوَى ثَقُلَ مِنْهَا ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ ، فَأَفَاقَ وَنَحْنُ نَبْكِي حَوْلَهُ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيكُمْ ؟ أَتَحْسَبُونَ أَنِّي مُتُّ عَلَى فِرَاشِي ؟ أَخْبَرَنِي حَبِيبِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ تَقْتُلُنِي الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، وَأَنَّ آخِرَ زَادِي مَذْقَةً مِنْ لَبَنٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَنِي أَنِّي أُقْتَلُ بَيْنَ صِفِّينَ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ،وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَمَوْلَاةُ عَمَّارٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ،وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی کنیز بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے ، ان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کہ ان پر بے ہوشی طاری ہو گئی ، جب انہیں ہوش آیا ، تو ہم ان کے اردگرد بیٹھے ہوئے رو رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ کیا تم یہ گمان کر رہے تھے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا ؟ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، ایک باغی گروہ مجھے قتل کرے گا اور دنیا میں سب سے آخر میں ، میں دودھ پیوں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے : مجھے دو صفوں کے درمیان قتل کیا جائے گا ۔ “ یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی کنیز سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2688) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1614)»