حدیث نمبر: 15561
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ شَجَرَةً ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ ، فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ صَعِدَ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَضْحَكُونَ ؟ لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ درخت پر چڑھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ اس درخت میں سے کچھ اتار کر لائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اوپر چڑھنے کے وقت ان کی پنڈلیوں کو دیکھا ، تو وہ لوگ اُن کی پنڈلیوں کے کمزور ہونے پر ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کس بات پر ہنس رہے ہو ؟ قیامت کے دن عبداللہ کی ٹانگ ، میزان میں ، اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ خاتون ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (539) اخرجه احمد فى المسند (920)»