حدیث نمبر: 15558
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا حَاذَى ِبهِ سَمِعَ دُعَاءَهُ وَهُوَ لَا يَعْرِفُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "سَلْ تُعْطَهُ" فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الدُّعَاءُ الَّذِي دَعَوْتَ بِهِ مَا هُوَ ؟ قَالَ: حَمِدْتُ اللَّهَ وَمَجَّدْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَعْدُكَ حَقٌّ ، وَلِقَاؤُكَ حُقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَرُسُلُكَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقٌّ . ¤ قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَسَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ السَّمَّانِ وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ مسجد میں موجود تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت دعا کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا کو سنا ، آپ اُن کو پہچانے نہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مانگو ! تمہیں وہ دیا جائے گا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : وہ دعا کیا تھی ؟ جو تم مانگ رہے تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی بزرگی بیان کی ، پھر میں نے یہ کہا: ” اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے ، تیرے رسول حق ہیں ، انبیاء کرام حق ہیں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل اور سعید بن ربیع سمان کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15558
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8418)»