حدیث نمبر: 15551
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ . قَالَ : فَغَضِبَ عُمَرُ ، وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ! مَنْ هُوَ ؟ فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَمَا زَالَ عُمَرُ يُطْفِئُ وَيُسَرِّي عَنْهُ الْغَضَبَ حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ! وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُهُ بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَزَالُ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَلِكَ لِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ ، وَإِنَّهُ سَمَرَ عِنْدِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا مَعَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَنَحْنُ نَمْشِي مَعَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ ، فَلَمَّا كِدْنَا نَعْرِفُ الرَّجُلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَطْبًا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " . قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَلْ تُعْطَهُ " . قَالَ عُمَرُ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَعُودَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ . قَالَ : فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي فَبَشَّرَهُ ، فَلَا وَاللَّهِ مَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن مروان بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ اس وقت عرفہ میں موجود تھے ، اس شخص نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! میں کوفہ سے آیا ہوں ، اور میں نے وہاں ایک صاحب کو چھوڑا ہے ، جو زبانی طور پر قرآن مجید املاء کرواتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے سے میں آ گئے اور شدید غصے میں آ گئے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا ستیاناس ہو ، وہ شخص کون ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہوا ، جب اُن کی کیفیت ٹھیک ہو گئی ، جو پہلے تھی ، تو انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، اللہ کی قسم ! ان کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ لوگوں میں کوئی بھی ایسا شخص باقی نہیں ہے ، جو اس بارے میں اُن سے زیادہ حق رکھتا ہو اور میں تمہیں اُس کے بارے میں بتاتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھ کر رات کے وقت گفتگو کرتے تھے ، جو مسلمانوں کے کسی معاملے کے بارے میں ہوتی تھی ، ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے ، میں بھی آپ کے پاس موجود تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے ، ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے ہوئے آئے ، تو ایک شخص مسجد میں کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اُس کی تلاوت سننے لگے ، قریب تھا کہ ہم اُس شخص کو پہچان جاتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جس طرح یہ نازل ہوا ہے ، اُسے ابن ام عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ) کی تلاوت کے مطابق قرآن کو پڑھنا چاہیے ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص بیٹھ کر دعا مانگنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور یہ کہنے لگے : تم مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سوچا ، اللہ کی قسم ! کل میں اس شخص کے پاس ضرور جاؤں گا ، اور اُسے ضرور خوشخبری سناؤں گا ، وہ کہتے ہیں : جب میں اگلے دن صبح اُسے خوشخبری دینے کے لیے اس کے پاس گیا ، تو میں نے یہ صورتحال پائی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے اسے خوشخبری سنا چکے تھے ، اللہ کی قسم ! میں نے بھلائی کے جس بھی کام کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی ، تو وہ اس بارے میں مجھ سے سبقت لے جا چکے ہوتے تھے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، ولہ شاہد
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (194) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8422)»