مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ وَمُضَاجَعَتِهَا . باب: حیض والی عورت کے ساتھ مباشرت کرنا اور اس کے ساتھ لیٹنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَا أُمُّ سَلَمَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مُضَاجِعَةٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قَامَتْ كَأَنَّهَا مُسْتَخْفِيَةٌ ، فَقَالَ : " مَا لَكِ ، نَفِسْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ ، فَقَالَ : " لَا بَأْسَ ، خُذِي عَلَيْكِ وُضُوءَكِ ، ثُمَّ ارْجِعِي إِلَى مَكَانِكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا رات کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیٹی ہوئی تھیں ، اسی دوران وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئیں ، جسے انہیں اندیشہ ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی حرج نہیں ہے ، تم اپنا کپڑا استعمال کرو ، اور پھر واپس اپنی جگہ پر آ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عیسیٰ خفی ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔