حدیث نمبر: 15511
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا أُصِيبَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ جِيءَ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، فَأُوقِفُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخِّرَ ، ثُمَّ عَادَ مِنَ الْغَدِ فَوَقَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " أُلَاقِي مِنْكَ الْيَوْمَ مَا لَقِيتُ مِنْكَ أَمْسِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ شَيْخِهِ عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو لایا گیا اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، تو انہیں پیچھے کر دیا گیا ، پھر وہ اگلے دن آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہاری وجہ سے کل جو میری کیفیت ہوئی تھی آج بھی وہی کیفیت ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15511
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ موضوع
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2675)»