حدیث نمبر: 15510
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ ، وَعَلِيٌّ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، فَقَالَ جَعْفَرٌ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَقَالَ زَيْدٌ : أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالُوا : انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى نَسْأَلَهُ . ¤ قَالَ أُسَامَةُ : فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ ، فَقَالَ : " اخْرُجْ فَانْظُرْ مِنْ هَؤُلَاءِ ؟ " . فَقُلْتُ : هَذَا جَعْفَرٌ وَعَلِيٌّ وَزَيْدٌ ، مَا أَقُولُ أَبِي قَالَ : " ائْذَنْ لَهُمْ " . فَدَخَلُوا فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : " فَاطِمَةُ " . قَالُوا : نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ قَالَ : " أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ فَأَشْبَهَ خَلْقُكَ خَلْقِي ، وَأَشْبَهُ خُلُقُكَ خُلُقِي ، وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي . وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي ، وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي . وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ فَمَوْلَايَ وَمِنِّي ، وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے ، تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں تم سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ لوگوں سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہوں ، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ لوگوں سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ہوں ، پھر انہوں نے کہا: تم ہمارے ساتھ اللہ کے رسول کی طرف چلو ! تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں ۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ حضرات تشریف لائے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جا کر دیکھو ! کہ کون لوگ ہیں ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا : سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ ہیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ ہیں ، میں نے یہ نہیں کہا: میرے والد ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں اجازت دیدو ! یہ حضرات اندر آئے اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فاطمہ ، اُنہوں نے عرض کی : ہم آپ سے مردوں کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے جعفر ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تمہارے اخلاق میرے اخلاق سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں ، تم مجھ سے ہو اور میرا شجرہ ہو ، اور اے علی ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے تو تم میرے داماد ہو اور میرے بچوں کے باپ ہو ، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو ، اور اے زید ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تم میرے آزاد کردہ غلام ہو اور مجھ سے ہو اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15510
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (204/5)»