حدیث نمبر: 15485
- وَبَلَغَنِي أَنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ لَهُ عَشَرَةُ أَوْلَادٍ ذُكُورٌ سِوَى الْإِنَاثِ ، فَمِنْ وَلَدِهِ : الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَقُثَمُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَمَعْبَدٌ ، وَأُمُّ حَبِيبٍ . وَأُمُّ وَلَدِ الْعَبَّاسِ هَؤُلَاءِ : أُمُّ الْفَضْلِ الصُّغْرَى ، وَاسْمُهَا : لُبَابَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنِ بْنِ قَيْسِ غِيلَانَ ، وَكَانَتْ قَدِيمَةَ الْإِسْلَامِ ، أَسَلَمَتْ بِمَكَّةَ ، وَفِي أُمِّ الْفَضْلِ يَقُولُ الشَّاعِرُ : ¤ مَا وَلَدَتْ نَجِيبَةٌ مِنْ فَحْلِ بِجَبَلٍ نَعْلَمُهُ أَوْ سَهْلِ كَسِتَّةٍ مِنْ بَطْنِ أُمِّ الْفَضْلِ ¤ أَكْرِمْ بِهَا مِنْ كَهْلَةٍ وَكَهْلِ عَمُّ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى ذِي الْفَضْلِ ¤ وَخَاتَمِ الرُّسُلِ وَخَيْرِ الرُّسْلِ . ¤ وَالْحَارِثُ بْنُ الْعَبَّاسِ أُمُّهُ : حُجَيْلَةُ بِنْتُ جُنْدُبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، مِنْ وَلَدِ تَمِيمِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْلِ بْنِ مُدْرِكَةَ . ¤ وَأُمُّهُ بِنْتُ الْعَبَّاسِ ، تَزَوَّجَهَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ . ¤ وَصَفِيَّةُ هِيَ أُخْتُ الْحَارِثِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ، وَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ : لَا ، بَلْ أُمُّهَا غَيْرُ أُمِّ الْحَارِثِ . ¤ وَكَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَعَوْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَرُوحٌ ، وَتَمَّامُ بْنُ الْعَبَّاسِ - وَكَانَ أَصْغَرَ وَلَدِ أَبِيهِ - يُقَالُ : إِنَّ تَمَّامًا أَخُو كَثِيرٍ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ، وَفِي تَمَّامٍ يَقُولُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : ¤ تَمُّوا بِتَمَامٍ فَصَارُوا عَشَرَةْ يَا رَبُّ فَاجْعَلْهُمْ كِرَامًا بَرَرَةْ ¤ اجْعَلْهُمْ ذِكْرَى وَأَنْمِ الثَّمَرَةْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی صاحبزادیوں کے علاوہ ، آپ کے دس بیٹے تھے ، آپ کی اولاد میں سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ ، سیدنا قثم رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ، سیدنا معبد رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام حبیب رضی اللہ عنہا ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ان بچوں کی والدہ سیدہ ام فضل صغریٰ رضی اللہ عنہا ہیں ، اُس خاتون کا نام لبابہ بنت حارث بن حزن بن قیس غیلان ہے ، انہوں نے قدیم زمانے میں ، مکہ میں اسلام قبول کر لیا تھا ۔ سیده ام فضل رضی اللہ عنہ کے بارے میں شاعر نے یہ کہا: ہے : ” ہمارے علم کے مطابق ، پہاڑ پر یا ہموار جگہ پر ، کسی معزز خاتون نے ایسے بیٹوں کو جنم نہیں دیا جیسے سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے چھ بیٹے ہیں ، ان کے حوالے سے بڑھاپے اور بوڑھے فرد کی عزت افزائی ہوئی ( اس خاتون کے شوہر ) نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں ( وہ نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ) جو فضیلت والے ہیں ، رسولوں ( کی بعثت کے سلسلے کو ) ختم کرنے والے ہیں اور سب رسولوں سے بہتر ہیں ۔ “ ( سیدنا عباس کے صاحبزادوں میں ) ایک سیدنا حارث بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ، اُن کی والدہ حجیلہ بنت جندب بن ربیعہ ہیں ، جو تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ کی اولاد میں سے ہے اور امیمہ بنت عباس ہیں ، جن کے ہاتھ عباس بن عتبہ بن ابولہب نے شادی کی تھی ، ایک صفیہ ہیں ، یہ دونوں حارث کی سگی بہنیں تھیں ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے : اس خاتون کی والدہ حارث کی والدہ سے الگ ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی دیگر اولاد ، سیدنا کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا عون بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا روح رضی اللہ عنہ ، سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ۔ جو اپنے والد کی اولاد میں ، سب سے چھوٹے ہیں ، یہ بات بیان کی جاتی ہے : سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما ، سیدنا کثیر بن عباس رضی اللہ عنہما کے سگے بھائی تھے ، سیدنا تمام بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب نے یہ شعر کہے ہیں : ” تمام کے ذریعے وہ مکمل ہو گئے اور وہ دس ہو گئے ، تو اے پروردگار ! تو انہیں معزز اور نیک بنا دے ، تو انہیں نصیحت اور سب سے زیادہ پھل پھول والا بنا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہیثم بن عدی نامی راوی متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15485
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف