مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ جُمِعَ مَعَهُ مِنْ وَلَدِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فِي يَوْمٍ حَارٍّ ، فَوُضِعَ لَهُ مَاءٌ يَتَبَرَّدُ بِهِ ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ فَوَلَّاهُ ظَهْرَهُ ، وَسَتَرَهُ بِكِسَاءٍ كَانَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " . قَالُوا : عَمُّكَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى طَلَعَتْ عَلَيْنَا مِنَ الْكِسَاءِ قَالَ : " سَتَرَكَ اللَّهُ يَا عَمِّ وَذُرِّيَّتَكَ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مُصْعَبٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ، ایک گرم دن میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنگ سے واپس تشریف لائے ، آپ کے لئے پانی رکھا گیا ، تاکہ آپ اس کے ذریعے ٹھنڈک حاصل کریں ، اسی دوران سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت کی طرف ایک چادر پردے کے طور پر لٹکا دی ، جو ان کے جسم پر تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل کر کے فارغ ہوئے ، تو آپ نے اس چادر سے باہر آ کر دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کی : ” اے چچا جان ! اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی ذریت کو جہنم سے بچا کے رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومصعب اسماعیل بن قیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔