مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ جُمِعَ مَعَهُ مِنْ وَلَدِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15474
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَوْصُوا بِعَمِّي الْعَبَّاسِ خَيْرًا ; فَإِنَّهُ بَقِيَّةُ آبَائِي ; فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھلائی کی تلقین قبول کرو ! کیونکہ وہ میرے آباؤ اجداد کا بقیہ ہیں ، اور آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ بعض اوقات غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔