مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ جُمِعَ مَعَهُ مِنْ وَلَدِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ : " هَذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا ، وَأَوْصَلُهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبَقِيعِ الْخَيْلِ ، فَأَقْبَلَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُجَهِّزُ جَيْشًا ، فَنَظَرَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَقَالَ . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” یہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب ہیں ، جو قریش میں سب سے زیادہ سخی ہیں ، اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند اور نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں : ہم ” بقیع الخیل “ کے مقام پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا عباس : تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اُس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث روایت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک لشکر کی تیاری کے سلسلے میں نکلے ، آپ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ارشاد فرمایا : ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی اس کے بعد سابقہ روایت ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن طلحہ تیمی ہے ، جس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔