مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أُمِّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ ام خالد بنت اسود رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15437
وَفِي رِوَايَةٍ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " . فَقَالُوا : بَعْضُ خَالَاتِكَ ، فَقَالَ : " إِنَّ خَالَاتِي فِي هَذِهِ الْأَرْضِ لَغَرَائِبُ ، مَنْ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : أُمُّ خَالِدٍ بِنْتُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ الَّذِي يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ " . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَإِسْنَادُ الثَّانِي حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ آپ کی ننھیالی عزیزہ ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سرزمین پر میری خالاؤں کا ہونا حیران کن بات ہے ، یہ کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ ام خالد بنت اسود بن عبدیغوث ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پاک ہے وہ ذات جو مردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے ۔ “ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، اس میں دوسری سند حسن ہے ۔