مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أُمِّ مَعْبَدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ حَرَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ مَعْبَدٍ كَانَتْ تَجْرِي عَلَيْهَا كِسْوَةٌ ، وَشَيْءٌ مِنْ غَلَّةِ الْيَمَنِ ، وَقَطِرَانٌ لِإِبِلِهَا ، فَمَرَّ عُثْمَانُ ، فَقَالَتْ : أَيْنَ كِسْوَتِي ؟ وَأَيْنَ غَلَّةُ الْيَمَنِ الَّتِي كَانَتْ تَأْتِينِي ؟ قَالَ : هِيَ لَكِ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ عِنْدَنَا ، وَاتَّبَعَتْهُ حَتَّى أَعْطَاهَا إِيَّاهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهِشَامُ بْنُ حَرَامٍ ، وَأَبُوهُ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّتُهَا فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ فِي كِتَابِ الْمَغَازِي ، وَلَهَا طَرِيقٌ آخَرُ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ہشام بن حرام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا کا لباس تھا اور یمن سے آنے والا کچھ غلہ تھا اور ان کے اونٹوں کا قطران ( تارکول کی مانند ایک چیز جو بعض درختوں سے بنائی جاتی ہے ) تھا ، وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور بولیں : میرا لباس کہاں ہے ، اور میرا یمن کا غلہ کہاں ہے ؟ جو میرے پاس آنا تھا ، تو انہوں نے کہا: اے ام معبد ! وہ آپ کا ہے ، اور ہمارے پاس ہے ، پھر سیدہ ام معبد رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں ، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ چیزیں انہیں دے دیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ہشام بن حرام اور ان کے والد ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے متعلق باب میں ان کا پورا واقعہ کتاب المغازی میں گزر چکا ہے ، اور اس کا ایک اور طریق علامات نبوت سے متعلق باب میں گزر چکا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک سے متعلق باب میں ہے ۔