حدیث نمبر: 15430
عَنْ رَوْضَةَ قَالَتْ : كُنْتُ وَصِيفَةً لِامْرَأَةٍ بِالْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَتْ لِي مَوْلَاتِي : يَا رَوْضَةُ ، قُومِي عَلَى بَابِ الدَّارِ ، فَإِذَا مَرَّ هَذَا الرَّجُلُ فَأَعْلِمِينِي ، فَقُمْتُ فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَأَخَذْتُ بِطَرَفِ رِدَائِهِ ، فَتَبَسَّمَ فِي وَجْهِي . قَالَ شَيْبَةُ : وَأَظُنُّهُ مَسَحَ [يَدَهُ] عَلَى رَأْسِي . ¤ فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي : هُوَ ذَا قَدْ جَاءَ الرَّجُلُ ، فَخَرَجَتْ مَوْلَاتِي وَمَنْ كَانَ مَعَهَا فِي الدَّارِ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمُوا . ¤ قَالَ عَبْدُ الْجَلِيلِ : وَحَدَّثَنِي شَيْبَةُ قَالَ : كَانَتْ رَوْضَةُ مَعِي فِي الدَّارِ فِي بَنِي سُلَيْمٍ ، إِذَا اشْتَرَى الْجِيرَانُ مَمْلُوكًا أَوْ خَادِمًا ، أَوْ ثَوْبًا أَوْ طَعَامًا قَالُوا لَهَا : يَا رَوْضَةُ ، ضَعِي يَدَكِ عَلَيْهِ ، فَكَانَتْ كُلُّ شَيْءٍ تَمَسُّهُ فِيهِ الْبَرَكَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ روضہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں مدینہ منورہ کی ایک خاتون کی کنیز تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو میری مالکن نے مجھ سے کہا: اے روضہ ! تم گھر کے دروازے پر کھڑی ہو جاؤ ، جب یہ صاحب یہاں سے گزریں تو مجھے اس بارے میں بتا دینا ، تو میں کھڑی ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب سمیت ان لوگوں کے ہاں آئے تو میں نے آپ کی چادر کا کونہ پکڑ لیا ، تو آپ نے مسکرا کے میری طرف دیکھا ۔ شیبہ نامی راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا ، میں نے اپنی مالکن سے کہا: وہ صاحب تشریف لے آئے ہیں ، تو میری مالکن نکلیں اور ان کے ساتھ گھر کی دیگر خواتین بھی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے سامنے اسلام کی پیش کش کی تو ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ عبدالجلیل نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ شیبہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدہ روضہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ بنو سلیم کے محلے میں ایک گھر میں رہی ہیں ، ان کے پڑوسیوں کا یہ معمول تھا کہ وہ جب بھی کوئی خادمہ یا ملازم یا کپڑا یا کھانا خریدتے تھے تو وہ اس خاتون سے یہ کہتے تھے : اے سیدہ روضہ رضی اللہ عنہا ! آپ اپنا ہاتھ اس پر رکھ دیں تو ہر وہ چیز جسے وہ چھو لیتی تھیں اس میں برکت ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف