مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ أُمِّ سُلَيْمٍ وَوَلَدِهَا عَبْدِ اللَّهِ وَوَالِدِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - باب: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے صاحبزادے عبداللہ اور ان کے صاحبزادے والد کے مناقب کا بیان
عَنِ [النَّضْرِ بْنِ ] أَنَسٍ قَالَ : جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى أَبِي أَنَسٍ ، فَقَالَتْ : جِئْتُ الْيَوْمَ بِمَا تَكْرَهُ ، فَقَالَ : لَا تَزَالِينَ تَجِيئِينَ بِمَا أَكْرَهُ مِنْ عِنْدِ هَذَا الْأَعْرَابِيِّ . قَالَتْ : كَانَ أَعْرَابِيًّا اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَاخْتَارَهُ وَجَعَلَهُ نَبِيًّا . ¤ قَالَ : مَا الَّذِي جِئْتِ بِهِ ؟ قَالَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ قَالَ : هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكِ . فَمَاتَ مُشْرِكًا . ¤ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ . قَالَتْ : لَمْ أَكُنْ أَتَزَوَّجُكَ وَأَنْتَ مُشْرِكٌ ؟ قَالَ : لَا وَاللَّهِ مَا هَذَا دَهْرُكِ ، قَالَتْ : فَمَا دَهْرِي ؟ قَالَ : دَهْرُكِ فِي الصَّفْرَاءِ وَالْبَيْضَاءِ ، قَالَتْ : فَإِنِّي أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّكَ إِنْ أَسْلَمْتَ فَقَدْ رَضِيتُ بِالْإِسْلَامِ مِنْكَ ، قَالَ : فَمَنْ لِي بِهَذَا ؟ قَالَتْ : يَا أَنَسُ ، قُمْ فَانْطَلِقْ مَعَ عَمِّكَ . ¤ فَقَامَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَاتِقِي ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ كَلَامَنَا ، فَقَالَ : " هَذَا أَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ عِزَّةُ الْإِسْلَامِ " . فَسَلَّمَ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، فَزَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْإِسْلَامِ . فَوَلَدَتْ لَهُ غُلَامًا ، ثُمَّ إِنَّ الْغُلَامَ دَرَجَ وَأُعْجِبَ بِهِ أَبُوهُ فَقَبَضَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ ابْنِي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ؟ قَالَتْ : خَيْرُ مَا كَانَ ، فَقَالَتْ : أَلَا تَتَغَدَّى ؟ قَدْ أَخَّرْتَ غَدَاءَكَ الْيَوْمَ قَالَتْ : فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ غَدَاءَهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا طَلْحَةَ ، عَارِيَةٌ اسْتَعَارَهَا قَوْمٌ وَكَانَتِ الْعَارِيَةُ عِنْدَهُمْ مَا قَضَى اللَّهُ ، وَإِنَّ أَهْلَ الْعَارِيَةِ أَرْسَلُوا إِلَى عَارِيَتِهِمْ فَقَبَضُوهَا ، أَلْهُمْ أَنْ يَجْزَعُوا ؟ قَالَ : لَا . قَالَتْ : فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ فَارَقَ الدُّنْيَا قَالَ : فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَتْ : هَا هُوَ ذَا فِي الْمَخْدَعِ ، فَدَخَلَ فَكَشَفَ عَنْهُ وَاسْتَرْجَعَ ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ بِقَوْلِ أُمِّ سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَقَدْ قَذَفَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي رَحِمِهَا ذَكَرًا ؛ لِصَبْرِهَا عَلَى وَلَدِهَا " . ¤ قَالَ : فَوَضَعَتْهُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ يَا أَنَسُ إِلَى أُمِّكَ فَقُلْ لَهَا : إِذَا قَطَعْتِ سِرَارَ ابْنَكِ فَلَا تُذِيقِيهِ شَيْئًا حَتَّى تُرْسِلِي بِهِ إِلَيَّ " . ¤ قَالَ : فَوَضَعْتُهُ عَلَى ذِرَاعِي حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : " ائْتِنِي بِثَلَاثِ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ " . قَالَ : فَجِئْتُ بِهِنَّ ، فَقَذَفَ نَوَاهُنَّ ، ثُمَّ قَذَفَهُ فِي فِيهِ فَلَاكَهُ ، ثُمَّ فَتَحَ فَا الْغُلَامِ فَجَعَلَهُ فِي فِيهِ ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ ، فَقَالَ : " أَنْصَارِيٌّ يُحِبُّ التَّمْرَ " . فَقَالَ : " اذْهَبْ إِلَى أُمِّكِ فَقُلْ : بَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِ وَجَعَلَهُ بَرًّا تَقِيًّا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا نضر بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے والد کے پاس آئیں اور بولیں : آج میں ایک ایسی چیز لے کر آئی ہوں ، جسے آپ ناپسند کریں گے ، تو انہوں نے کہا: تم مسلسل اس دیہاتی کے پاس سے وہ چیز لے کر آتی ہو ، جسے میں ناپسند کرتا ہوں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ دیہاتی ایسا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا ہے اور اسے اختیار کیا ہے ، اور اسے نبی بنایا ہے ، ان صاحب نے کہا: تم ان کے پاس سے کیا لے کے آئی ہو ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بتایا شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ، تو ان صاحب نے کہا: یہ میرے اور تمہارے درمیان علیحدگی ہے ، تو اُن صاحب کا انتقال مشرک ہونے کے عالم میں ہوا ۔ پھر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس آئے انہوں نے کہا: میں ایسی صورت میں آپ کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی ، جبکہ آپ مشرک ہوں ، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! یہ کبھی نہیں ہو سکتا ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : میرے زمانے سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: تمہارا زمانہ زرد اور سفید چیز ( یعنی سونے اور چاندی میں ہے ) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کو اور اللہ کے نبی کو گواہ بنا کر یہ کہتی ہوں کہ اگر آپ نے اسلام قبول کر لیا ، تو میں آپ کی طرف سے اسلام پر راضی ہوں ، تو انہوں نے دریافت کیا : میرے حق میں اس حوالے سے کون ہو گا تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس ! تم اٹھو اور اپنے چچا کے ساتھ جاؤ ، تو وہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا پھر ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم اللہ کے نبی کے قریب پہنچے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا کلام سن لیا تھا ، آپ نے فرمایا : یہ تو ابوطلحہ ہے جس کی آنکھوں کے آگے اسلام کی عزت ہے ( یا چمک ہے ) انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور یہ کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شادی کروائی ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے ایک لڑے کو جنم دیا ، وہ بچہ اپنے والد کے نزدیک بہت پسندیدہ تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس بچے کی روح کو قبض کر لیا ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے دریافت کیا : اے ام سلیم میرے بیٹے کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے بتایا : اچھی حالت میں ہے ، پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا ، کیا آپ کھانا نہیں کھائیں گے ، میں نے آپ کا کھانا سنبھال کے رکھا ہوا ہے ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا ، پھر میں نے کہا: اے ابوطلحہ ایک عاریت کے طور پر دی جانے والی چیز جسے کسی قوم نے عارت کے طور پر لیا ہو اور وہ عاریت کے طور پر ان کے پاس اس وقت تک رہے جب تک اللہ کو منظور ہو ، پھر عاریت کے طور پر دینے والے لوگ اپنی عاریت والی چیز کی طرف کسی کو بھیج کر اسے واپس لے لیں ، تو کیا دوسرے لوگوں کو رونے پیٹنے کا حق ہو گا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ کا بیٹا دنیا سے رخصت ہو گیا ہے ، سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کہاں ہے ؟ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ وہاں ہے ، تو وہ اندر گئے انہوں نے اس سے کپڑا ہٹایا اور انا اللہ و انا الیه راجعون پڑھا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی بات کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے رحم میں ایک بیٹا پیدا کیا ہے ، اور یہ اس عورت کے اپنی اولاد پر صبر کرنے کی وجہ سے ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس بچے کو جنم دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس ! تم اپنی ماں کے پاس جاؤ اور اس سے یہ کہنا کہ جب تم اپنے بیٹے کی نال کاٹ دو تو اسے کوئی چیز نہ چکھانا ، جب تک اسے میرے پاس نہیں بھیج دیتیں ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس بچے کو میرے بازوں پر رکھا ، میں اسے لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس تین عجوہ کھجوریں لے کے آؤ ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں انہیں لے کے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گٹھلیاں پھینک دیں پھر آپ نے وہ کھجور اپنے منہ میں ڈالی اسے چبایا ، پھر آپ نے بچے کا منہ کھولا اور وہ اس کے منہ میں ڈال دی تو اس بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ انصاری ہے ، کھجور سے محبت کرتا ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی ماں کے پاس جاؤ اور اس سے یہ کہنا کہ اس بچے میں اللہ تعالیٰ تمہارے لئے برکت رکھے اور اسے نیک اور پرہیزگار بنائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف أحمد بن منصور رمادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔