مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ أُمِّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ أُمُّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ خَلَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَمِيصَهُ وَأَلْبَسَهَا إِيَّاهُ ، وَاضْطَجَعَ فِي قَبْرِهَا ، فَلَمَّا سُوِّيَ عَلَيْهَا التُّرَابُ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَصْنَعْهُ بِأَحَدٍ ! فَقَالَ : " أَلْبَسْتُهَا قَمِيصِي ; لِتَلْبَسَ مِنْ ثِيَابِ الْجَنَّةِ ، وَاضْطَّجَعْتُ مَعَهَا فِي قَبْرِهَا ; خُفِّفَ عَنْهَا مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ ؛ إِنَّهَا كَانَتْ مِنْ أَحْسَنِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ صَنِيعًا بَعْدَ أَبِي طَالِبٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتاری اور وہ انہیں پہنانے کے لئے دی ، آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی قبر میں خود لیٹے اور جب ان کی قبر پر مٹی برابر کر لی گئی تو کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو ایک ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا جو آپ نے کسی کے لئے نہیں کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے انہیں اپنی قمیص پہنانے کے لئے اسی لئے دی تاکہ وہ جنت کا لباس پہنے اور میں اس کی قبر میں اس لئے لیٹا تاکہ قبر کے بھینچنے کے حوالے سے انہیں تخفیف ہو ، کیونکہ جناب ابوطالب کے بعد ، اللہ کی مخلوق میں سے ، انہوں نے میرے ساتھ سب سے اچھا سلوک کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔