مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ أُمِّ هَانِئٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ خَرَجَتْ مُتَبَرِّجَةً قَدْ بَدَا قُرْطَاهَا ، فَقَالَ لَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : اعْمَلِي ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يُغْنِي عَنْكِ شَيْئًا ، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَتْهُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ شَفَاعَتِي لَا تَنَالُ أَهْلَ بَيْتِي ! وَإِنَّ شَفَاعَتِي تَنَالُ حَاءَ وَحَكَمَ " . - وَحَاءَ وَحَكَمَ قَبِيلَتَانِ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ اُم ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا گھر سے باہر نکلیں تو ان کی زینت ظاہر تھی اور ان کی بالیاں نظر آ رہی تھیں تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم عمل کیا کرو ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے کسی کام نہیں آ سکیں گے ، وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میری شفاعت میرے اہل بیت کو نصیب نہیں ہو گی حالانکہ میری شفاعت ” حاء“ اور حکم کو نصیب ہو جائے گی ( راوی کہتے ہیں ) یہ دو قبیلے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔