حدیث نمبر: 15399
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَسَدِ بْنِ هَاشِمٍ أُمُّ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهَا ، فَقَالَ : " رَحِمَكِ اللَّهُ يَا أُمِّي ، كُنْتِ أُمِّي بَعْدَ أُمِّي ، تَجُوعِينَ وَتُشْبِعِينِي ، وَتَعْرَيْنَ وَتَكْسِينِي ، وَتَمْنَعِينَ نَفْسَكِ طَيِّبًا وَتُطْعِمِينِي ، تُرِيدِينَ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ " . ثُمَّ أَمَرَ أَنْ تُغَسَّلَ ثَلَاثًا ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمَاءَ الَّذِي فِيهِ الْكَافُورُ سَكَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ، ثُمَّ خَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَمِيصَهُ فَأَلْبَسُهَا إِيَّاهُ ، وَكَفَّنَهَا بِبُرْدٍ فَوْقَهُ ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَأَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَغُلَامًا أَسْوَدَ يَحْفِرُونَ ، فَحَفَرُوا قَبْرَهَا ، فَلَمَّا بَلَغُوا اللَّحْدَ حَفْرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ، وَأَخْرَجَ تُرَابَهُ بِيَدِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاضْطَجَعَ فِيهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، اغْفِرْ لِأُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتِ أَسَدٍ ، وَلَقِّنْهَا حُجَّتَهَا ، وَوَسِّعْ عَلَيْهَا مُدْخَلَهَا بِحَقِّ نَبِيِّكَ وَالْأَنْبِيَاءِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِي ; فَإِنَّكَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ " . وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ، وَأَدْخَلُوهَا اللَّحْدَ هُوَ ، وَالْعَبَّاسُ ، وَأَبُو بَكْرٍ الصَّدِيقُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت اسد بن ہاشم ، جو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، جب ان کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی میت کے پاس تشریف لائے آپ ان کے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : اے امی جان ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے آپ میری والدہ کے بعد میری ماں کی جگہ تھیں آپ خود بھوکی رہ جاتی تھیں اور مجھے سیر کروا دیتی تھیں ، خود پرانے لباس میں رہتی تھیں اور مجھے نیا لباس دے دیتی تھیں ، خود عمدہ چیزیں نہیں کھاتی تھیں مجھے کھلا دیتی تھیں اور آپ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے گھر کا حصول کا ارادہ رکھتی تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس خاتون کو تین مرتبہ غسل دیا گیا ، جب وہ پانی آیا جس میں کافور ملا ہوا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے اندر ڈالا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر انہیں پہنانے کے لئے دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قمیص کے اوپر چادروں میں انہیں کفن دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما ، سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ایک سیاہ فام غلام کو بلوایا ، انہوں نے قبر کھودی ، جب وہ لوگ لحد تک پہنچ گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے کھودا اور اپنے ہاتھ سے اس کی مٹی باہر نکالی ، جب اس کام سے فارغ ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر اترے اور اس میں لیٹ گئے پھر آپ نے یہ پڑھا : ” اللہ کی ذات وہ ہے جو زندگی دیتا ہے ، اور وہ موت دیتا ہے ، اور وہ خود زندہ ہے ، اور اسے موت نہیں آئے گی ، تو میری ماں فاطمہ بنت اسد کی مغفرت کر دے اور اسے اس کی حجت تلقین کرنا اور اپنے نبی اور مجھ سے پہلے کے انبیاء کے وسیلے سے ان کی قبر کو ان کے لئے کشادہ کر دینا ، بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی نماز میں چار تکبیریں کہی تھیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو لحد میں اتارا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے جسے ابن حبان اور حاکم نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15399
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (351/24)»